بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

امام جعفر بن محمد الصادق (علیہ السلام)  شیعون کے چھٹے امام ہیں اور 34 سال تک آپ  شیعوں کے امام رہے  (یعنی 114سے 148ہجری تک) ۔ 

امام صادق (علیہ السلام)  کی ولادت با سعادت آپ کے جدّ ختمی مرتبت  رسول اللہ ﷺ کی تاریخ ولادت کے مانند ہے۔ آپ کی ولادت    ۱۷ ربیع الاول سن ۸۳ ہجری قمری مدینہ منورہ  میں ہوئی آپ کے والد  ماجد پانچویں امام حضرت  محمد باقر (علیہ السلام) ہیں اور آپ کی والدہ   کا  نام مبارک امّ فروہ ہے۔ امّ فروہ جناب قاسم بن محمد بن ابی بکر کی بیٹی ہیں یہ محمد بن ابی بکر وہی ہیں جنکو امام علی (علیہ السلام) نے اپنا بیٹا فرمایا ہے ۔  امام صادق (علیہ السلام) کی والدہ نہایت پاکدامن خاتون تھیں اور  امام سجاد (علیہ السلام)  [1]کے اصحاب میں آپ کا شمار ہوتا ہے یہاں تک کہ آپ کو فقیہ اہل حجاز کہا جاتا تھا[2]۔

امام صادق (علیہ السلام) کا زمانہ تاریخ اسلام میں بہت اہمیت کا حامل ہے اسکی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ آپؑ کے زمانے میں اموی حکومت کا زوال اور عباسی حکومت کا اقتدار   وجود میں آیا اور اس سیاسی اقتدار کی کشمکش میں امام  صادق (علیہ السلام) کو تبلیغ  کی فرصت ملی اور آپ نے شاگرد پروری کا سلسلہ شروع کیا۔

اموی حکومت کا زوال سبب بنا کے امام  صادق(علیہ السلام) نے دیگر ائمہ (علیہم السلام)  کی نسبت اسلامِ ناب محمدی کی  زیادہ تبلیغ و ترویج کی اور  یہ بات اتنی زیادہ اثر انداز ہوئی کہ آپ کے چار ہراز سے زیادہ  شاگرد تھے  اور اسی لئے اکثر اہلبیت (علیہم السلام) کی  روایات  امام صادق (علیہ السلام) سے منقول ہیں اور یہی وجہ بنی کہ  شیعون کو جعفری کہا جانے لگا۔ شیعہ مذہب کے علاوہ فقہ اہل تسنن میں بھی امام صادق(علیہ السلام)  کو بہت عزت و احترام حاصل ہے۔

امام صادق (علیہ السلام) کا دور اسلام کے لئے بہت ہی سنہرا دور تھا اور امام (علیہ السلام)  نے اپنے مشہور شاگرودوں کے ذریعہ دور دور تک علم کے روشنی بھیلائی۔   ہشام بن حکم، اَبان بن تغلب،زرارہ بن اعین،  مومن الطاق وغیرہ امام (علیہ السلام) کے مشہور شاگرد ہیں۔

امام  صادق(علیہ السلام)   کی لاتعداد احادیث میں سے ایک مشہور حدیث کو یہاں تبرکا ذکر کیا جا رہا ہے کہ جس میں امام نے فرمایا

يَغْدُو النّاسُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ عَالِمٍ وَ مُتَعَلّمٍ وَ غُثَاءٍ فَنَحْنُ الْعُلَمَاءُ وَ شِيعَتُنَا الْمُتَعَلّمُونَ وَ سَائِرُ النّاسِ غُثَاءٌ

لوگ تین قسم کے ہوتے ہیں، یا عالم ہوں گے یا علم سیکھ رہے ہوں گے یا خَس و خاشاک ہوں گے،  ہم عالم ہیں ہمارے شیعہ علم سیکھنے والے ہیں اور باقی سب خَس و خاشاک ہیں[3]۔

پروردگار عالم ہم سب کو اس دنیا میں  مکتبِ امام صادق (علیہ السلام) کا شادگر قرار دے اور آخرت میں انکی شفاعت نصیب فرمائے۔


[1] قمی، أنوار البهیة، ص229.

[2] مجلسی، بحار الأنوار، ج42، ص162.

[3] اصول کافی ج 1 ص 41