حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا  (کہ جنکو  بر صغیر میں  معصومہ قم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے)،  امام کاظم علیہ السلام  اور بی بی  نجمہ خاتون  علیہا السلام کی دختر ہیں۔ آپ کی ولادت با سعادت   پہلی ذی القعدہ سن ۱۷۳ ہجری میں ہوئی۔ امام کاظم علیہ السلام کی اپنی جدہ ماجدہ    حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا سے شدید محبت کے سبب آپ نے بھی اپنی بیٹی کا نام فاطمہ رکھا اور بعد میں آپ کی شان و منزلت، عفت اور پاک دامنی کی خاطر آپ   معصومہ کے لقب سے مشہور ہو گئیں۔

معصومہ اور کریمہ اہل بیت حضرت فاطمہ معصومہ کے دو مشہور القاب ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ معصومہ  کا لقب امام رضا علیہ السلام سے منسوب ایک روایت سے اخذ کیا گیا ہے۔ علامہ محمد باقر مجلسی کی کتاب زاد المعاد کی روایت میں یوں بیان ہوا ہے کہ امام رضا علیہ السالم نے انہیں معصومہ کا لقب دیا ہے۔

حضرت فاطمہ معصومہ کو  کریمہ اہل بیت بھی کہا جاتا ہے۔اور اسکی دلیل یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہ لقب آیت‌اللہ سید شہاب الدین مرعشی نجفی کے والد سید محمود مرعشی نجفی کے دیکھے ہوئے اس خواب سے مستند ہے جس میں ائمہ علیہم السلام میں سے کسی ایک نے حضرت معصومہ علیہا السلام کو کریمہ اہل بیت علیہم السلام سے تعبیر کیا ہے۔

حضرت فاطمہ معصومہ کا  مقام شفاعت

آپ کی عظمت کے لئے یہ حدیث کا فی ہے کہ جسمیں دو معصوم اماموں علیہما السلام نے آپ کی شفاعت کی گواہی دی ہے۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : « تُدْخَلُ بِشَفَاعَتِهَا شِیعَتِی الْجَنَّةَ بِأَجْمَعِهِمْ» انکی شفاعت سےمیرے تمام  شیعہ جنت میں داخل کر دئے جائیں گے۔[ بحارالانوار، ج60، ص228]

امام رضا علیہ السلام نے  اپنی بہن حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام کے لئے جو الہی   زیارت نامہ بیان کیا ہے اس میں  آپ کی منزلت کو  اس طرح روشن فرمایا: « یا فاطمة إشفعی لی فی الجنة فإنّ لک عندالله شأن من الشأن» اے فاطمہ آپ  جنت میں ہماری  شفاعت فرمائیے گا کیونکہ بے شک اللہ کے نزدیک آپ کی خاص شان و منزلت ہے۔

قم میں آمد

تاریخ قم نامی کتاب کے مطابق حضرت معصومہ نے سنہ ۲۰۰ ہجری میں اپنے بھائی امام رضا علیہ السلام سے ملاقات کے لئے مدینہ  سے ایران کا سفر کیا۔ اس وقت امام رضا علیہ السلام  کا مامون عباسی کی ولی عہدی کا دور تھا اور امام علیہ السلام خراسان میں تھے ۔ تاریخی شواہد کے مطابق آپ خراسان نہیں پہنچ سکیں اور امام رضا علیہ السلام سے آپ کی ملاقات نہیں ہو پائی کیونکہ حاکم وقت نے اپنے کارندوں کے ذریعہ حضرت معصومہ کے کاروان پر حملہ کروایا جس میں کافی بنی ہاشم شہید ہو گئے اور سید جعفر مرتضی عاملی کا کہنا ہے کہ حضرت معصومہ علیہا السلام کو ساوہ میں مسموم کیا گیا  اور قم آکر آپ کی چند دن بعد شہادت ہو گئی۔

حضرت معصومہ  علیہا السلام کے قم جانے کے بارے میں دو قول ہیں: ایک قول کے مطابق جب آپ ساوہ میں بیمار ہوگئیں تو آپ نے اپنے ہمراہ افراد سے قم چلنے کے لئے کہا۔ دوسرے قول جسے تاریخ قم کے مصنف زیادہ صحیح سمجھتے ہیں اس کے مطابق خود قم کے لوگوں نے آپ سے قم آنے کی درخواست کی۔ قم میں حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام نے موسی بن خزرج اشعری کے گھر پر قیام کیا اور ۱۷ دن کے بعد آپ کی وفات ہوئی۔ آپ کا جنازہ موجودہ حرم کی جگہ، بابلان قبرستان میں دفن کیا گیا۔

پروردگار عالم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ حضرت فاطمہ  معصومہ سلام اللہ علیہا کی شفاعت ہم سب کے شامل حال ہو۔