اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ بَاقِرِ الْعِلْمِ وَإِمَامِ الْهُدَى وَقَائِدِ أَهْلِ التَّقْوَى وَالْمُنْتَجَبِ مِنْ عِبَادِکَ ...

ماہ ذی الحجہ کی ساتویں تاریخ منسوب ہے سلسلہ امامت کی پانچویں کڑی حضرت باقر العلوم امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت سے۔  ۷ ذیالحجۃ سن ۱۱۴ ہجری میں آپ کو قبرستان بقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔آپ کی عمر بابرکت ۵۷ سال تھی اور آپکی مدت امامت ۱۹ سال تھی۔

کربلا میں

امام محمد باقر علیہ السلام کی ولادت پہلی رجب سن ۵۷ میں مدینہ منورہ میں ہوئی اور آپ چار سال کی عمر میں سن ۶۱ ہجری میں اپنے والد گرامی اور جد امجد امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ کربلا میں موجود تھے۔ امام باقر علیہ السلام نے کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور انکے اصحاب باوفا کی شہادتیں دیکھیں اور کوفہ اور شام کی اسیری کی صعوبتیں بھی اٹھائیں۔

علمی تحریک کا آغاز

امام سجاد علیہ السلام نے مدینہ میں لوگوں کو آگاہ کیا اور مسلمان کچھ حد تک بیدار  ہوئے اور اسی بیداری کی تحریک کو امام باقر علیہ السلام نے جلا بخشی اور معاشرہ میں ایک علمی جنبش وجود میں آئی، آپ کے فرزند امام صادق علیہ السلام  نے اس جنبش علمی کو باقاعدہ تحریک کی صورت میں چلایا اور ہزاروں شاگردوں کی تربیت کی۔ اسی وجی سے ہماری کتب روائی میں سب سے زیادہ امام باقر اور امام صادق علیہما السلام سے نقل شدہ روایات موجود ہیں۔

جابر کي روايت
امام باقر علیہ السلام کی دلیل امامت میں آنحضرت ﷺ کے ذریعہ امام باقر علیہ السلام کا نام کا ذکر کرنا اور سلام بھجوانا اہم دلیل کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے جو آپ نے جابر ابن عبداﷲ انصاری کے ذریعہ امام باقر علیہ السلام کو پہونچایا۔ اس سلام کی اہمیت یہ ہے کہ جس رسول ﷺکو سلام کرنا ساری انسانیت اپنے لئے اعزاز سمجھتی ہو وہ ذات مقدس امام باقر علیہ السلام کو سلام پہونچاتی ہے۔

شہادت

لوگوں کے درمیان امام محمد باقر علیہ السلام کی  محبوبیت اور مقبولیت کو دیکھ کر خلیفہ وقت ہشام بن عبد الملک تاب نہ لا سکا اور اسکو یہ احساس ہوا کہ یہ میری حکومت کے لئے خطرہ ہیں جسکے نتیجہ میں امام باقر علیہ السلام کو شہید کردیا۔

امام باقر علیہ السلام کی وصیت تھی کہ انکو اپنے والد امام زین العبدین علیہ السلام اور جد امام حسن علیہ السلام کے کنارے جنت البقیع میں دفنایا جائے۔ شیخ صدوقؒ کی کتاب من لا یحضرہ الفقیہ میں روایت کے مطابق امام علیہ السلام  نے وصیت فرمائی تھی کہ  انکی شہادت کے بعددس سال تک منا کے میدان میں انکے لئے مجلس اور عزا داری برپا کی جائے اور اسکا خرچہ انکے مال میں سے لیا جائے۔

علم کی اہمیت

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا :تَعَلَّمُوا العِلمَ فَإنَّ تَعَلُّمَهُ حَسَنَةٌ، وَطَلَبَهُ عِبَادَةٌ.

علم حاصل کرو، کیونکہ علم حاصل کرنا نیکی ہے اور علم کو طلب کرنا عبادت ہے۔  (بحار الأنوار  ,  جلد75  ,  صفحہ189)

امام صادق علیہ السلام آنلائن مدرسہ امام محمد باقر علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت پر عالم اسلام کی خدمت میں  اور مخصوصا امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہے۔