بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیک یا ابا عبد اللہ

تمام مومین کی خدمت میں ماہِ عزا کی تسلیت و تعزیت پیش کرتے ہیں۔

محرم کا مہینہ قمری سال کا پہلا مہینہ ہے۔ اسی مہینہ کے سن ۶۱ ہجری میں رسول اللہ ﷺ  کے نواسہ امام حسین بن علی (علیہما السلام) او ر انکے اصحاب باوفا  کی انتہائی مظلومانہ طریقہ سے وقت کے ظالم یزید کے ہاتھوں شہادت ہوئی۔

یہ مہینہ تمام مسلمانوں اور انسانیت کو دوست رکہنے والے ہر حق پسند افراد کے لئے غم و اندوہ کا مہینہ ہے ، بالخصوص اہلبیت (علیہم السلام) کے شیعوں کے لئے جو اس مہینہ اور اسکے بعد کے ماہ صفر کو عزاداری کی حالت میں گزار تے ہیں۔

یقینا  دین کی حفاظت کے لئے امام حسین (علیہ السلام) کی قربانی ہر انصاف پسند کے دل کو محزون کر دیتی ہے اور تمام انبیاء  اور ائمہ (علیہم السلام) نے اس قربانی پر آنسو  بہا کر اس عظیم قربانی کو یاد کیا ہے۔

امام رضا (علیہ السلام) نے اس مہینہ کی تعظیم کو اس طرح بیان کیا:
 كانَ أبي عليه‏السلام إذا دَخَلَ شَهرُ الُمحَرَّمِ لا يُرى ضاحِكا، وكانَتِ الكَآبَهُ تَغلِبُ علَيهِ حَتّى تَمضِيَ عَشرَةُ أيّامٍ، فإذا كانَ يَومُ العاشِرِ كانَ ذلكَ اليَومُ يَومَ مُصيبَتِهِ وحُزنِهِ وبُكائهِ، و يَقولُ: هُوَ اليَومُ الَّذي قُتِلَ فيهِ الحُسَينُ[1]

محرم کے مہینے کے آتے ہی کوئی بھی میرے والد (امام کاظم علیہ السلام) کو ہنستا نہیں دیکھتا تھا،غم و اندوہ ان پر طاری رہتا تھایہاں تک کے محرم کی دس تاریخ    آجاتی تھی اور دس محرم کو  انکے لئےبے حد مصیبت، حزن اور آہ و بکا کا دن ہوتا تھا، اور وہ (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھےیہ ’وہ دن ہے جس دن امام حسین (علیہ السلام) کو شہید کیا گیا تھا‘۔

لہذا ائمہ اطہار (علیہم السلام)  کی پیروی کرتے ہوئےہر مومن ان ایام کو سوگواری کے ساتھ گزارتا ہے۔

جیسا کہ اسلامی تعلیمات میں ہرمہینہ کے خاص اعمال ذکر ہوئے ہیں ہر دن کا خاص ادب ذکر ہوا ہے  اسی طرح محرم  کےمہینہ کا بھی ایک خاص عمل ہے اور وہ ہےعزاداری سید الشہداء (علیہ السلام)  اور مصیبت زدہ رہنا کہ جسکا اظہار   مجالسِ عزا، ماتم داری، مرثیہ خوانی اور گریہ و زاری کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔

امام حسین (علیہ السلام) پر گریہ و زاری کرنے کی بے انتہا فضیلت بیان کی گئی ہےاور تاکید کی گئی ہے کہ بہترین انداز میں ہر ممکن طریقہ سے عزاداری کی جائے اور کسی بھی حالت میں ترک نہ کی جائے۔

ایک دوسری روایت میں امام رضا (علیہ السلام) نے اپنے صحابی ریان بن شبیب سے ان ایام کی تعظیم کے لئے ایک حدیث میں فرمایا:

  يَا ابْنَ شَبِيبٍ إِنْ كُنْتَ بَاكِياً لِشَيْ‏ءٍ فَابْكِ لِلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليه السلام فَإِنَّهُ ذُبِحَ كَمَا يُذْبَحُ الْكَبْشُ وَ قُتِلَ مَعَهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ رَجُلًا مَا لَهُمْ فِي الْأَرْضِ شَبِيهُونَ وَ لَقَدْ بَكَتِ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَ الْأَرَضُونَ لِقَتْلِهِ.[2]

ائے شبیب کے بیٹے اگر تمکو کسی چیز پر رونا ہو تو حسین بن علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کے لئے گریہ کرو کیونکہ انکو ایک گوسفندکی مانند ذبح کردیا گیا اور انکے ساتھ اٹھارا بنی ہاشم کو بھی شہید کردیا کہ دنیا میں انکے جیسا کوئی اور نہیں ہے اور انکی شہادت پر ساتوں آسمان اور زمینوں نے گریہ کیا ہے۔

پروردگار عالم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سب امام حسین (علیہ السلام)   کی مصیبت میں ہر ممکن طریقہ سے عزاداری کر سکیں اور  حقیقی منتقم خون امام حسین (علیہ السلام) یعنی انکے فرزند امام حجۃ بن حسن (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کے ظہور میں تعجیل ہو۔

[1] شیخ حر عاملی، وسائل الشيعه، جلد 10، صفحه 394.

[2]  شیخ صدوق، الامالی، ص 192.

مرتبط موضوع