آج جنت  منتظر ہے سیدالاوصیاء کی، ختمی مرتبت ﷺ بھی فردوس اعلیٰ میں اپنے وصی کے استقبال کے لئے آمادہ ہیں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا بہشت بریں میں ابوالحسن علیہ السلام کے انتطار میں ہیں جبرئیل ملائکہ کی صفیں لگائے کھڑے  ہیں ، آج امیرالمومنین یعسوب الدین علی بن ابی  طالب علیہ السلام زمین چھوڑ کرملکوت اعلی کی طرف جا رہے ہیں۔

اہل زمین نے رسول ﷺ کے جانشین کی قدر نہیں کی اور مولا کے خون سے محراب مسجد کو رنگین کر دیا۔ ابو طالب علیہ السلام کے فرزند حضرت فاطمہ بنت اسد کے بیٹےصبح کے وقت   سن۴۰ہجری کو ابن ملجم مرادی ملعون کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔

علی علیہ السلام  مسجدکوفہ میں زخمی ہوئے اور جبرئیل آسمان پر تڑپ رہے ہیں اور با صدائے بلندکہتے جاتے ہیں تہدمت وللہ ارکان الہدی قد قتل علی المرتضی۔

وہ امام اولین اور آخرین کہ جنکی ولادت اللہ کے گھر خانہ کعبہ میں ہوئی اور انکی شہادت اللہ کے گھر مسجد کوفہ میں ہوئی ایسی عظیم شخصیت نے بڑے بڑے معرکہ سر کئے لیکن کبھی  اس طرح فتح کا اعلان نہیں کیا لیکن جب ضربت لگی تو فرمایا  «فُزتُ وَ رَبِّ الكعبه»۔

آج زمین و آسمان رو رہے ہیں کہ شیرخداعلی مرتضی علیہ السلام کی ڈاڑہی خون سے رنگین ہے۔  حسنین علیہما السلام یتیم ہو رہے ہیں مومنین کے امیر رخصت ہو رہے ہیں یتیموں، مسکینوں،بیواؤں اور بے سہارا لوگوں کا سہارا اب نہیں رہا۔  کوفہ کے در و دیوار سے گریہ و زاری کی آوازیں آ رہی ہیں۔

 مولا علی علیہ السلام تو شہید ہو گئےلیکن انکے شیعوں کے لیئے انکی سیرت ہمیشہ باقی رہے گی۔ پردے کا اتنا خیال تھا کہ اصحاب کو گھر سے دور کر دیاکہیں خواتین کے رونے کی آوازیں نامحرم نہ سن لیں۔ عدالت اور مہربانی کا یہ عالم تھاکہ اپنے قاتل کو دودھ دیا رسییاں ڈھیلی کروائیں۔امت کی ہدایت کا اتنا اہتمام کرتے تھے کہ سب کو بلا کر نصیحتیں اور وصیتیں فرمائیں اور بستر علالت پر بھی سب کے سوالوں کے جواب دئے اور سلونی کے دعوے کی لاج رکھی۔

پرودگار عالم ہم سب کو حیدر کرار علیہ السلام کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

امام صادق (علیہ السلام) آنلائن مدرسہ تمام مسلمانوں کی خدمت میں رسولﷺ کے خلیفہ بلافصل اور پہلے امام کی شہادت پر تعزیت اور  تسلیت پیش کرتا ہے۔