۸ شوال تاریخ اسلام کا ایک سیاہ دن ہے کہ جب آل سعود نے ائمہ بقیع علیہم السلام کی قبور کو منہدم کر دیا۔

آج کا دن شیعیان امیر المومنین  علیہ السلام  کے لئے افسوس اور غم کا دن ہےکہ جب وہابیوں نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا اور عبد العزیز بن سعود کی رہنمائی میں مدینہ منورہ رپر بھی حملہ کر کے اس با عظمت شہر کی حرمت پامال کردی اور  مدینہ میں بے گناہ لوگوں کا قتل عام ہوا، مقدسات کی حرمت پامال ہوئی یہاں تک کے ائمہ اطہار علیہم السلام کی قبور کو مسمار کر دیا۔

یہ واقعہ جولائی سن ۱۹۲۵ میں ہوا کہ جب ۱۵ وہابی مفتیوں نے قبور پر  تعمیر کی حرمت کا فتوی دیا۔ اتنے سال گزرجانے کا بعد بھی ائمہ بقیع علیہم السلام کی قبور بقیع کے قبرستان میں ویران ہیں اور امت مسلمہ کے لئے یہ شرم کا مقام ہے۔ جب بھی یہ دن آتا ہے تو غم تازہ ہو جاتا ہےاور ہر انصاف پسند مسلمان اس دن کی یاد مناتا ہے تاکہ ظالم حاکموں کے اس بے شرمی کو دنیا کے سامنے لایا جا سکےاور معلوم ہو سکے کہ کون رسول اللہ ﷺ اور انکی آل علیہم السلام سے محبت کرتا ہے اور کون رسولﷺ  اور آل رسول علیہم السلام سے بغض اور عداوت رکھتا ہے۔

تخریب کے بعد جنت البقیع ایک مسطح زمین میں تبدیل ہو گئی ہے لیکن شیعوں کے چار اماموں کے قبور کی جگہ اب بھی قابل تشخیص ہیں۔

اس قبرستان  میں ہمارے چار اماموں کی قبور ہیں، امام حسن علیہ السلام، امام سجاد علیہ السلام، امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر الصادق علیہ السلام، ان معصوموں کے علاوہ بھی اس  تاریخی قبرستان میں اسلام کی دیگر عظیم شخصیتیں بھی مدفون ہیں۔

شیعہ علماء نے جنت البقیع کے انہدام پرعالمی پیمانے پر احتجاج  کئےاور اس واقعے کی مذمت کے علاوہ اس پر مختلف کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں مذہبی مقامات کی تخریب کے سلسلے میں وہابیوں کے نظریات پر تنقید کرتے ہوئے وہابیوں کو مذہبی نظریات کی بنیاد پر مذہبی مقامات تخریب کرنے والا پہلا گروہ قرار دیا ہے۔ 

پروردگار عالم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ  امام زمانہ عجل اللہ فرجہ کے ظہور میں تعجیل فرائے اور  ان ظالمین کے ظلم اور ستم کو خود انکی طرف پلٹا دے ۔

امام صادق (علیہ السلام) آنلائن مدرسہ روز  انہدام جنت البقیع پر عالم اسلام کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہے۔