پندرہ رمضان المبارک سن تین ہجری میں جنت کے جوانوں کے سردار سبط اکبر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام حسن مجتبی علیہ السلام پیدا ہوئے۔

امام حسن علیہ السلام کی سیرت سب کے لئے نمونہ عمل ہے اور آپ کا کرم زبانزد عام و خاص تھا اسی لئے آپ کو کریم اہلبیت علیہم السلام بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ آپ کا یہ شیوہ تھا کہ کسی بھی محتاج شخص کو دیکھتے تھے تو اس سے پہلے کہ وہ سوال کرے آپ اسکی حاجت روائی فرما دیتے تھے۔

آپ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ آپ نے اپنی حیاب مبارکہ میں دو بار اپنی تمام دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کردیا اور تین مرتبہ اپنے مال کو دو حصوں پر تقسیم کرکے ایک حصہ خود رکھا اور دوسرا حصہ ضرورتمندوں اور محتاجوں میں تقسیم کر دیا۔

 امام حسن علیہ السلام کے بے انتہا فضائل ہیں ان میں سے یہ بھی ایک عظیم فضیلت ہے کہ آپ مصداق آیہ تطہیر ہیں اور آپ کے بچپن میں ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کی امامت کی بشارت دے دی تھی۔ امام حسن علیہ السلام کا مباہلہ کے روز رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ موجود ہونا بھی آپ کی عظمت پر روشن دلیل ہے۔

امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد ۲۱ رمضان سن ۴۰ ہجری امام حسن علیہ السلام منصب امامت پر فائز ہوئےاور اپنی عمر بابرکت کو حق کی دفاع اور  باطل سے مقابلے میں صرف کر دیا  اور ہمیشہ بنی امیہ کی تفرقہ انگیز سازشوں کی مخالفت کی اور آخر کار ۲۸ صفر سن ۵۰ ہجری میں معاویہ نے جعدہ کے ہاتھوں زہر دلوا کر شہید کروا دیا۔

 

رسول خدا صلی‌الله‌علیه‌و‌آله‌وسلم

اَللّهُمَّ إنّیِ اُحِبُّ حَسَناً فَاَحِبَّهُ وَ اَحَبَّ اللهُ مَنْ یُحِبهُ

پروردگار میں حسن(علیہ السلام) سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے اس سے بھی محبت فرما۔

[كنز العمال ج 16، ص 262]