روز عَرَفَہ  ماہ ذیالحجہ کے نویں اور  عید اضحی سے پہلے والے دن کو کہا جاتا ہے اور یہ دن تمام  مسلمانوں کے لئے اہم دن شمار کیا جاتا ہے۔   حاجیوں کیلئے اس دن ظہر سے لے کر مغرب تک  عرفات کے میدان میں توقف کرنا ضروری ہے۔  مختلف پہلووں سے اس دن کو عظمت حاصل ہے، بندگی اور عبادت کے ذریعہ معنوی کمال حاحل کرنے کے لئے یہ دن مشہور ہے اور اس دن کے لئے مختلف  اعمال،  اذکار اور  دعائیں مشہور یں ہیں جن میں سے سب سے مشہور  امام حسین علیہ السلام کی  دعائے عرفہ ہے۔

عرفہ کے معنی

"عَرَفَہ" عربی زبان کا لفظ ہے جو مادہ "ع ر ف" سے کسی چیز کے آثار میں تفکر اور تدبر کے ساتھ اس کی شناخت اور ادراک کے معنی میں آتا ہے۔ عرفہ کا نام سرزمین عرفات مکہ مکرم کا وہ جگہ جہاں حاجی توقف کرتے ہیں سے ماخوذ ہے اور عرفات کو اسلئے عرفات کہا جاتا ہے کہ یہ پہاڑوں کے درمیان ایک مشخص اور شناختہ شدہ زمین ہے۔

روز عرفہ کی اہمیت

آج کے دن کی خاص فضیلت ہے اور آج کا دن   کو گناہوں کے معاف ہونے کا دن بھی کہا جاتا ہے۔ روایات کے مطابق آج کے دن دعائیں قبول ہوتی ہیں، امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: تَخَيَّر لِنَفسِكَ مِنَ الدُّعاءِ ما أحبَبتَ واجْتَهِد ، فإنَّهُ (يَومَ عَرَفَة) يَومُ دُعاءٍ و مَسألَةٍ   اپنے لئے جو چیز پسند کرتے ہو اسکے لئے دعا کرو اور کوشش کرو، کیونکہ یہ (روز عرفہ) دعا کرنے اور مانگنے کا دن ہے۔ (تہذيب الأحكام ، ج 5 ، ص 182)

ائمہ معصومین علیہم السلام  اس دن کیلئے ایک خاص احترام کے قائل تھے اور لوگوں کو اس دن کی اہمیت سے روشناس کراتے اور انہیں اس دن کے اعمال کی طرف متوجہ کراتے تھے اور کبھی بھی کسی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجتے تھے۔

امام زین العابدین علیہ السلام نے آج کے دن ایک سائل کو لوگوں سے خیرات مانگتے ہوئے سنا، آپ علیہ السلام نے فرمایا افسوس ہے تجھ پرکہ آج کے دن بھی تو غیر خدا سے سوال کر رہا ہے ۔

روز عرفہ کے مستحبات

روز عرفہ کے بہت زیادہ مستحب اعمال احادیث میں وارد ہوئے ہیں جن میں سے بعض یوں ہیں:

احادیث کے مطابق دعا اور استغفار روز عرفہ کے بافضیلت ترین اعمال میں سے ہے۔دعاوں میں دعائے عرفہ کے پڑھنے کی بہت سفارش ہوئی ہے۔

غسل کرنا۔

زیارت امام حسینؑ۔ 

منا میں بیتوتہ کرنا یعنی شب عرفہ کو غروب سے لے کر صبح تک منا میں ٹھرنا۔ 

صدقہ دینا۔

روزہ رکھنا۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ خداوند عالم ہم سب کو آج کے دن عبادت اور اطاعت کی توفیق عطا فرمائے اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔