عید غدیر

۱۸ ذی الحجہ سن ۱۰ ہجری کا دن تھا ،  رسول گرامی اسلام ﷺ  حج سے واپس آرہے تھےکہ  جبرئیل امین الہی پیغام لے کر نازل ہوئے ایسا پیغام جو تمام دیگر پیغامات سے منفرد تھا، ایسا پیغام جسکی لحن دیگر آیات سے بلکل اگل ہے، ایسا پیغام کہ جسکے لئے خود  رسول اللہ ﷺ بھی انتظار کر رہے تھے۔ جبرئیل امین نے آیت تبلیغ پڑھ کر سنائی  يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ۔۔۔(مائدہ ۶۷) [ اے رسول! جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے۔ اسے (لوگوں تک) پہنچا دیجیے]

اعلان ولایت

جبرئیل امین نے  فرمان الہی  کو  آیت قرآنی کی شکل میں  سنایا، آیت کے لحن سے مزاج قدرت کی سنجیدگی کا احساس  کر کے  رسول اکرم ﷺ نے  فورا ان سخت اور غیر معمولی حالات میں سب کے سامنے  علی بن ابیطالب علیہ السلام کو ہاتھوں پر اٹھا کر  اعلان کیا    « مَن کُنتُ مَولاهُ فَهذا علیٌ مَولا؛ جسکا میں مولا ہوں اس کے علی بھی مولا ہیں». اسطرح سے نبوت کے بعد ہدایت بشر کے لئے امامت کا سلسلہ شروع ہوا اور امام علی علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے  بلافصل خلیفہ اور  جانشین بنے۔

اعلان کے بعد

 ابھی اجتماع منتشر نہیں ہوا تھا کہ جبرائیل دوبارہ نازل ہوئے اور خدا کی طرف سے رسول خداﷺ  پر  آیت اکمال نازل کردی؛ جس میں ارشاد ہوا:

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِيناً (مائدہ ۳)

[ آج میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین کے پسند کر لیا۔]

رسول اکرم ﷺکے حکم سے مردوں اور عرتوں کے لئے خیمہ لگوایا گیا سب نے آکر امام علی علیہ السلام کو  امیر المومنین کہہ کر مبارک باد دی اور امام علی علیہ السلام کی  بیعت کی۔

غدیر خم میں اس موقع پر دس ہزار حاجیون  کا مجمع موجود تھا۔

امام صادق علیہ السلام آنلائن مدرسہ  عید اللہ الاکبر کے مبارک موقع پر تمام مومنین کی خدمت میں تبریک و تہنیت پیش کرتا ہے۔