اسلامی عیدوں میں سے ایک اہم ترین عید روز عید الفطر ہے۔ دیگر اعیاد کی مانند اس عید میں کوئی خاص تاریخی واقعہ پیش نہیں آیا ہے بلکہ پہلی شوال کو عید اس لیئے منائی جاتی ہے کیونکہ انسان ایک مہینہ اللہ تبارک و تعالی کی عبادت کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

ایک ماہ تک انسان اپنے رب کی بارگاہ میں استغفاراور راز و نیاز کرنے کے بعد آج اپنی اس معنوی کامیابی اور خداوند عالم سے حاصل ہونے والی قربت پر خوشی مناتا ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: فَإِذَا کَانَتْ لَیلَةُ الْفِطْرِ وَ هِی تُسَمَّى لَیلَةَ الْجَوَائِزِ أَعْطَى اللَّهُ الْعَامِلینَ أَجْرَهُمْ بِغَیرِ حِسَابٍ

جب عید فطر کی شب آتی ہے کہ جسکو ہدیوں کی رات بھی کہا جاتا ہے تو اس رات اللہ اپنے بندوں کو بے حساب نعمتیں عطا کرتا  ہے۔

( امالی مفید، مجلس 27  ص232)».

لہذا اس رات انسان  کو چاہئے کہ اللہ  کی جانب سے رحمت کا منتظر رہے اور مادی نعمتوں کے ساتھ معنوی نعمتیں بھی طلب کرے۔

امام علی علیہ السلام نے فرمایا: « ألا و إنَّ هذا الیَومَ یَومٌ جَعَلَهُ اللّه ُ لَکُم عِیدا و جَعَلَکُم لَهُ أهلاً، فَاذکُرُوا اللّه َ یَذکُرکُم وَ ادْعُوهُ یَستَجِب لَکُم».

( من لایحضره الفقیه، ج ۱، ص ۵۱۷)

یقینا یہ دن (عید فطر)  اللہ نے تمہارے لئے عید کا دن قرار دیا ہے اور تمکو اس دن کا اہل بنایا ہے، تو بس تم لوگ اللہ کو یاد کرو تاکہ وہ تمکو یاد کرے، اس سے دعا مانگو تاکہ وہ تمہاری دعا قبول کرے۔

اے میرے اللہ ! ہم نے تیس دن تیری عبادت کی اور بھوک و پیاس کو تیری خوشنودی کے لئے برداشت کیا تاکہ تیری بارگاہ کے مقرب بندے بن سکیں ، آج اس عید فطر کے دن تجھ سے دعا کرتے ہیں ہم سب کو اپنے خاص بندوں میں قرار دے اور ہمیشہ تیری یاد میں زندگی بسر کریں۔