بسم  اللہ الرحمن الرحیم

حسن بن علی  عسکری (علیہما السلام)  شیعوں کے گیارہویں امام ہیں۔ آپ دسویں امام علی النقی (علیہ السلام) کے فرزند  ہیں۔ سن ۲۵۴ ہجری میں امام علی النقی (علیہ السلام) کی شہادت کے بعد  آپ منصب امامت پر فائز ہوئے اور آپ کی امامت کا اکثر دور سامراء کے شہر میں ظالم و جابر  عباسی خلفاء  کی عائد کردہ شدید پابندوں اور نظربندی میں گزرا جسکے نتیجہ میں امام عسکری (علیہ السلام)  کے شیعہ آپ سے ملاقات نہیں کر سکتے تھے اور بے حد محدودطریقہ سے امام (علیہ السلام)  اپنے کچھ خاص وکیلوں کے ذریعہ لوگوں سے رابطہ  میں رہتے تھے۔

شیخ طوسی  کی کتاب الغیبۃ اور  دیگر  تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ اتنا پر آشوب تھا  کہ امام (علیہ السلام) کے چاہنے والے گھر جا کر امام (علیہ السلام) سے تفصیلی ملاقات نہیں کر پاتے تھے بلکہ جب امام (علیہ السلام)  اپنے گھر سے دار الحکومۃ تشریف لے جاتے تھے تو لوگ راستہ میں جمع ہو جاتے تھے اور امام عسکری (علیہ السلام)  کی زیارت کی توفیق حاصل ہو جاتی تھی۔  علی بن جعفراس بات کو حلبی سے   نقل کرتے ہیں کہ ایک دن   یہ خبر ملی کہ امام (علیہ السلام)  آج  دار الخلافۃ  تشریف لے جائیں گےیہ خبر ملتے ہی چاہنے والوں کی بھیڑ جمع ہو گئی  اور  ہم سب امام (علیہ السلام) کی زیارت کے شوق میں منتظر تھےکہ امام کا پیغام آیا اس مضمون کے ساتھ  ألّا یسلمنّ علیّ أحد و لا یشیر الیّ بیده و لا یؤمئ فإنّکم لا تؤمنون علی أنفسکم، کہ کوئی   بھی مجھے سلام نہ کرے اور کوئی بھی میری طرف اشارہ نہ  کرے کیونکہ تم لوگ اس وقت محفوظ نہیں ہو[1]۔

اس روایت سے اندازہ ہوتا ہے حکومت نے کس قدر امام (علیہ السلام)  اور شیعوں کو تحت نظر رکھا ہوا تھا اور حکومت کی طرف سے کتنا زیادہ خظرہ تھا۔ ان خطرناک حالات میں بھی امام (علیہ السلام) نے اپنے وکیلوں کے ذریعہ شیعوں کی راہنمائی فرمائی۔

آخر کار  دشمن نے اپنا دیرینہ حربہ اپناتے ہوئے  امام معصوم کو زہر دے  دیا۔ عباسی خلیفہ معتمد عباسی نے امام عسکری (علیہ السلام) کو زہر دلوایا جسکے نتیجہ میں  ۸ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری  میں امام کی شہادت ہوئی  اور آپ کو سامراء میں اپنے والد گرامی کے مرقد منور کے کنارے سپرد خاک کیا گیا۔

احمد بن عبد اللہ کی روایت کے مطابق جب شہر میں امام عسکری (علیہ السلام) کی شہادت کی خبر عام ہوئی تو لوگ نالہ و شیون کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے اور سروں کو پیٹ کر ’ابن الرضا‘ گزر گئے  کی فریاد کرنے لگے۔ شہر کا بازار بند ہو گیا تھا  اور بنی ہاشم کے افراد کے علاوہ شہر کی محترم شخصیتیں اور حکومت کے اعلیٰ عہدہ داران بھی جانزہ میں شرکت کرنے کے لئے جمع ہو گئے تھے۔[2]



[1]  الخرائج و الجرائح، ج ۱، ص ۴۳۹؛ الصراط المستقیم، ج ۱، ص ۲۰۷

[2]  کمال الدین، ج ۱، ص ۴۳؛ نور الابصار، ص ۱۶۸؛ الغیبه، طوسى، ص ۱۳۲